LIVE
Loading Breaking News...

یمنی حکومت کی حوثیوں کے خلاف عسکری اور سفارتی مہم

News Image
یمنی حکومت نے حوثیوں کے خلاف میدانِ جنگ میں کامیابیوں کا دعویٰ کیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس تنازع کو اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں سرفہرست لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ یہ اقدام حوثی باغیوں کی طرف سے حاصل کیے گئے فوائد کو ختم کرنے کے مقصد سے اٹھایا جا رہا ہے۔
یمنی حکومت نے ملک میں حوثیوں کی طرف سے حاصل کیے گئے عسکری فوائد کو پلٹنے کے لیے ایک جامع عسکری اور سفارتی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق، یمنی فوج اور اتحادی عسکری دستوں نے میدانِ جنگ میں اہم پیش قدمی کی ہے، جس کا مقصد باغیوں کے زیرِ تسلط علاقوں کو واپس لینا اور ریاستی رٹ کو بحال کرنا ہے۔ اس عسکری دباؤ کے ساتھ ساتھ، حکومت کی جانب سے ایک وسیع تر سفارتی حکمت عملی پر بھی عمل پیرا ہونے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ سفارتی محاذ پر، یمنی رہنماؤں اور ان کے اتحادیوں کی اہم توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ انسدادِ حوثی جدوجہد کو ایک بار پھر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی توجہ کا مرکز بنایا جائے۔ اس سلسلے میں عالمی رہنماؤں اور سفارتی حلقوں کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے حوثی باغیوں پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ پرامن حل کی طرف آئیں یا عسکری و اقتصادی نتائج کے لیے تیار رہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمنی حکومت کا یہ دوطرفہ نقطہ نظر یعنی بیک وقت میدانِ جنگ اور سفارتی میز پر دباؤ بڑھانا، حالیہ مہینوں میں انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ زمینی حقائق کو بدلنے کی یہ کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور بین الاقوامی ادارے اس بحران کے پرامن حل کی تلاش میں مصروف ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ اس دباؤ کے نتیجے میں باغیوں کو دفاعی پوزیشن اپنانے پر مجبور کیا جا سکے گا۔ آنے والے ہفتوں میں اس عسکری اور سفارتی مہم کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا انحصار خطے کے بدلتے ہوئے سیاسی و عسکری حالات پر ہوگا۔ یمنی عوام اور حکومت طویل عرصے سے جاری اس بحران کے خاتمے کے لیے پرامید ہیں، تاہم زمین پر پائیدار امن کے قیام کے لیے ابھی مزید کٹھن مراحل طے کرنا ہوں گے۔