Politics
وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں مصروفیت، آئی ایم ایف سے ملاقات اور ایران تنازع پر مؤقف
وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر آئی ایم ایف کی سربراہ سے اہم ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور ایران تنازع کے پرامن حل کے لیے ثالثی کے کردار پر مکمل توجہ دے رہا ہے۔
نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی مصروفات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ اس اہم سفارتی دورے کے دوران وزیراعظم نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ سے ملاقات کی جس میں ملک کی معاشی صورتحال اور اصلاحاتی پروگراموں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے جاری کوششوں کو سراہا گیا اور مستقبل کے معاشی اہداف پر اتفاق کیا گیا۔ معاشی امور کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں اور میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو بھی توجہ کا مرکز بنی رہی۔
میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال بالخصوص ایران تنازع پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان اس وقت خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور ایران جنگ کو رکوانے کے لیے ثالثی کے کردار پر مکمل طور پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ تمام تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت اور سفارتی ذرائع سے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی پاکستان کے اس مثبت اور تعمیراتی کردار کو سراہا ہے جو خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عالمی ادارے نے پاکستان کے ساتھ باضابطہ رابطہ کیا ہے تاکہ ایران جنگ کے خاتمے میں اسلام آباد کی سفارتی صلاحیتوں سے مدد لی جا سکے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کے خطے میں تمام فریقین کے ساتھ اچھے تعلقات اسے اس نازک معاملے میں ایک موثر اور قابل اعتماد ثالث کے طور پر ابھارتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں وہ اسٹریٹجک امور اور امن و امان کے قیام کے لیے پاکستانی حکومت کی کوششوں کو مزید قریب سے دیکھیں گے۔
وزیراعظم کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی برادری خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی فضا اور اس کے معاشی اثرات سے سخت تشویش کا شکار ہے۔ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی یہ کوششیں نہ صرف ملک کے عالمی تشخص کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں بلکہ یہ خطے میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم بھی مانی جا رہی ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اپنی اس سفارتی مہم کے دوران عالمی پلیٹ فارمز پر پاکستان کا موثر مقدمہ لڑ رہے ہیں اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ سفارت کاری کے ذریعے جنگ کے بادلوں کو چھٹایا جائے۔