Business
محمد اورنگزیب: ڈیجیٹل تبدیلی پائیدار معاشی ترقی کی کلید ہے
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے معاشی استحکام کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی اور توانائی کے تحفظ کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ انہوں نے عالمی فنڈز تک آسان رسائی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے حالیہ بیانات اور پالیسی مباحثوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک میں پائیدار اور طویل المدتی اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی بحالی اور مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے جدید ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت کو ایک طاقتور انجن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں شفافیت اور تیزی آئے گی۔ وزیر خزانہ نے ریڈیو پاکستان اور دیگر اہم پلیٹ فارمز پر گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈیجیٹل اثاثہ جات کی ریگولیشن اور معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے ملکی ریونیو میں اضافہ ہوگا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
اس کے علاوہ، محمد اورنگزیب نے ملکی معیشت کی بنیادی لچک اور استحکام کے لیے توانائی کے تحفظ کو بھی کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک توانائی کی لاگت اور اس کی بلا تعطل فراہمی کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل نہیں کیا جاتا، صنعتی ترقی اور برآمدات میں مطلوبہ اضافہ ناممکن ہے۔ حکومت اس شعبے میں اصلاحات کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے تاکہ کاروباری بردری کو سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے اور پیداواری لاگت کو کم کیا جا سکے، جس سے بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہتر ہوگی۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور گلوبل فورمز پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مضبوط اقدامات اور فنڈز تک آسان رسائی کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، لہذا عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے آسان شرائط پر مالی امداد فراہم کرے۔ محمد اورنگزیب کے ان خیالات سے ملک کی معاشی پالیسیوں میں ٹیکنالوجی، گرین انرجی اور ڈیجیٹل اکانومی کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔