Pakistan
وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق اہم بیان
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع میں ہر وقت مملکت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تمام ممکنہ شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی وقار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور اس مقصد کے لیے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے ایک حالیہ بیان میں کیا، جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ اور تاریخی تعلقات کو مزید اجاگر کیا گیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین دفاعی، معاشی اور اسٹریٹجک شراکت داری خطے کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان مملکت کی سلامتی کو اپنی ہی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے اور کسی بھی مشکل وقت میں سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
حالیہ دنوں میں مکہ ڈیفنس معاہدے اور دوطرفہ سلامتی کے امور پر مختلف علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر بحث جاری ہے، جس کے پس منظر میں پاکستانی قیادت کا یہ مؤقف خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں انتہائی معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق، اس بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام آباد اور ریاض کے تعلقات کسی بھی بیرونی دباؤ سے بالاتر ہیں اور دونوں ممالک باہمی دلچسپی کے تمام امور پر ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ اس عزم کا اعادہ اس امر کا مظہر ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام اور برادر اسلامی ممالک کی سلامتی کے حوالے سے اپنی روایتی اور ذمہ دارانہ پالیسی پر سختی سے کاربند ہے۔
اس کے علاوہ، مختلف سفارتی اور دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ تسلسل خطے میں استحکام لانے کے لیے ایک کلیدی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے مابین باقاعدہ ملاقاتیں اور مشاورت اس بات کی غماز ہیں کہ مستقبل میں ان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جایا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے اس واشگاف بیان نے تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترتی ہے اور دونوں ممالک ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے پشت پناہ بنے رہیں گے۔