LIVE
Loading Breaking News...

فٹ بال اسٹیڈیم میں شراب نوشی کی پابندی امتیازی سلوک قرار

News Image
برنھم نے فٹ بال کے شائقین پر 1985 سے عائد شراب نوشی کی پابندی کو غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم بھی اس پرانے قانون کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے ختم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
برنھم نے فٹ بال کے شائقین پر اسٹیڈیم میں شراب نوشی کی پابندی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک صریح 'امتیازی سلوک' قرار دیا ہے۔ یہ پابندی گزشتہ کئی دہائیوں سے یعنی 1985 سے نافذ چلی آ رہی ہے، جس کے تحت فٹ بال میچوں کے دوران شائقین کو گیلریوں یا نشستوں پر بیٹھ کر شراب پینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس طویل المدتی قانون پر اب کھیلوں کے حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے اور اس کو ختم کرنے کے مطالبات بھی زور پکڑ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملک کے وزیر اعظم بھی اس مروجہ قانون کے سخت مخالف ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اب اس پرانے قانون کو تبدیل کرنے یا ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ فٹ بال کے شائقین کے ساتھ اس قسم کی قدغنیں لگانا اور انہیں دیگر کھیلوں کے مقابلے میں مختلف اصولوں کا پابند بنانا مناسب نہیں ہے۔ اس حوالے سے یہ مؤقف بھی سامنے آ رہا ہے کہ اگر دیگر کھیلوں کے شائقین کے لیے قواعد نرم ہو سکتے ہیں تو فٹ بال کے لیے بھی اس پالیسی پر نظرثانی ہونی چاہیے۔ موجودہ صورتحال میں یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ آیا 1985 کے اس قانون کو اب ختم کر دینا چاہیے یا نہیں۔ فٹ بال ایسوسی ایشن اور دیگر متعلقہ حکام اس معاملے کے تمام ممکنہ قانونی اور معاشرتی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگرچہ شائقین کا ایک طبقہ اس پابندی کے خاتمے کا حامی ہے تاکہ اسٹیڈیم کا ماحول زیادہ پرسکون اور دوستانہ بنایا جا سکے، تاہم امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے حوالے سے کچھ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس قانون میں تبدیلی کے حوالے سے مزید مباحثے متوقع ہیں کیونکہ سیاسی شخصیات اور کھیلوں کے رہنما اس پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ برنھم کے اس بیان کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر قومی سطح پر بحث کا مرکز بن گیا ہے اور تمام نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت اس پرانا قانون کو ختم کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات اٹھاتی ہے۔