LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ: بے روزگار افراد کے فوائد اور نئی کنزرویٹو تجاویز

News Image
برطانوی کنزرویٹو پارٹی نے ایک نئی پالیسی تجویز کی ہے جس کے تحت طویل عرصے سے بے روزگار افراد کو ملنے والے فنڈز سے الکحل اور سگریٹ کی خریداری پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان افراد کے فوائد میں بھی کٹوتی کی جائے گی جو کام کرنے کے قابل ہیں لیکن طویل مدت تک نوکری برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔
برطانوی سیاست میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے جہاں کنزرویٹو پارٹی نے بے روزگار افراد کے لیے فلاحی فوائد کے حوالے سے سخت اور اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ ان نئی تجاویز کا بنیادی مقصد سرکاری فنڈز کے درست استعمال کو یقینی بنانا اور بے روزگاری کے نظام میں اصلاحات لانا ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت طویل عرصے سے بے روزگار رہنے والے افراد کو حکومت کی طرف سے ملنے والی مالی امداد یا فوائد کی رقم سے الکحل اور سگریٹ جیسی اشیاء خریدنے سے سختی سے روکا جائے گا۔ پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ سرکاری فنڈز کا مقصد شہریوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ہے نہ کہ نشہ آور اشیاء کی خریداری میں معاونت کرنا۔ اس کے علاوہ، ان تجاویز کا ایک اور اہم پہلو ان افراد کو نشانہ بنانا ہے جو کام کرنے کی جسمانی اور ذہنی صلاحیت تو رکھتے ہیں لیکن بار بار نوکری بدلنے یا اسے برقرار نہ رکھ پانے کی وجہ سے طویل عرصے تک بے روزگار رہتے ہیں۔ ایسے تمام افراد کے لیے حکومتی فوائد یا امدادی رقوم میں نمایاں کٹوتی کی جائے گی تاکہ انہیں جلد از جلد دوبارہ روزگار حاصل کرنے اور معاشی طور پر خود کفیل بننے کے لیے ترغیب دی جا سکے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ریاست پر پڑنے والے مالی بوجھ میں کمی آئے گی اور ویلفیئر سسٹم پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔ ان تجاویز پر ملک بھر میں ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف قدامت پسند حلقوں اور ٹیکس دہندگان کی طرف سے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے اور اسے مالیاتی نظم و ضبط کی جانب ایک بہتر قدم قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف فلاحی اداروں اور اپوزیشن جماعتوں نے شدید تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے سخت اقدامات سے غریب اور مشکلات کے شکار افراد مزید مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں اور اس سے معاشرے میں عدم مساوات میں اضافہ ہوگا۔ تاہم، کنزرویٹو قیادت اس بات پر بضض دکھائی دیتی ہے کہ ویلفیئر اصلاحات ملک کی معاشی ترقی اور افرادی قوت کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کو لے کر پارلیمنٹ میں گرما گرم بحث متوقع ہے کیونکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس معاملے پر اپنے اپنے مؤقوف پر قائم ہیں۔