LIVE
Loading Breaking News...

تونس جیل میں غزہ فلوٹیلا کے کارکن کی بھوک ہڑتال اور تشویشناک حالت

News Image
گزا سمود فلوٹیلا کے مطابق تونس کی جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے کارکن وائل نوار کی حالت تشویشناک ہو گئی ہے۔ ان کی بھوک ہڑتال کو انیس چالیس دن مکمل ہو چکے ہیں اور وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
تونس کی ایک جیل میں بند غزہ کے حامی اور فلوٹیلا کے سرگرم کارکن وائل نوار کی صحت شدید ترین خطرے میں پڑ چکی ہے۔ گزا سمود فلوٹیلا کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین بیانات میں بتایا گیا ہے کہ وائل نوار گزشتہ انیس چالیس دنوں سے مسلسل بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں ان کی جسمانی حالت انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے اور وہ موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں۔ ان کی بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر انہیں فوری طور پر جیل سے نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹرز ان کی جان بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یاد رہے کہ وائل نوار غزہ کے محاصرے کے خلاف آواز بلند کرنے والے اور فلوٹیلا مشن کے ساتھ وابستہ معروف کارکن ہیں۔ ان کی جانب سے یہ انتہائی قدم تونس کی جیل میں قید کے دوران اپنے مطالعے اور احتجاج کے طور پر اٹھایا گیا تھا، جس نے اب ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی کارکنوں نے وائل نوار کی زندگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور فوری طور پر ان کی رہائی اور بہتر طبی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ فلوٹیلا کے دیگر ارکان نے بھی دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر فوری نوٹس لیں تاکہ ایک بے گناہ کارکن کی جان کو بچایا جا سکے۔ تونس کے حکام کی جانب سے اس صورتحال پر تاحال کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم اسپتال میں ان کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ڈاکٹرز مسلسل ان کی حالت کی نگرانی کر رہے ہیں۔