World
ایتھوپیا میں ٹگرے باغیوں کی جارحیت پر صدر کی سخت وارننگ
ایتھوپیا کے صدر تائے اتسکے سلاسی نے ملک میں ٹگرے باغیوں کی جانب سے عسکری پیش قدمی شروع کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال ملک کو ایک بار پھر تباہی اور بربادی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
ایتھوپیا کے صدر تائے اتسکے سلاسی نے ملک میں ایک بار پھر سر اٹھانے والے تنازعے کے حوالے سے انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے۔ انہوں نے ملک کی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ بننے والی قوتوں کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اندرونی امن کو خراب کرنے والی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اطلاعات کے مطابق ٹگرے باغیوں نے ملک کے مختلف حصوں میں اپنی عسکری سرگرمیاں دوبارہ تیز کرتے ہوئے ایک نئی جارحانہ پیش قدمی کا آغاز کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تازہ پیش قدمی سے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے جو پچھلے امن معاہدوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
صدر تائے اتسکے سلاسی نے اپنے بیان میں انتباہ جاری کیا کہ نام نہاد تباہی کی یہ قوتیں ملک کو دوبارہ خانہ جنگی اور بربادی کے اندھیروں میں دھکیلنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاستی ادارے اور عوام ملک کے اتحاد کو بچانے کے لیے ہر ممکنہ اقدام اٹھائیں گے اور کسی بھی غیر قانونی عسکری کارروائی کو آہنی ہاتھوں سے روکا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے اس پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ سکیورٹی فورسز کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ عالمی برادری اور سفارتی حلقے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں تاکہ ایتھوپیا میں کسی بھی بڑے انسانی بحران یا تنازعے کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔