LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ کو سلامتی کونسل اور فنڈز کے بحران کا سامنا، ماہرین کی وارننگ

News Image
بین الاقوامی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کو فنڈز کی کمی، اثر و رسوخ کے فقدان اور سلامتی کونسل میں شدید ڈیڈ لاک جیسے سنگین بحرانوں کا سامنا ہے۔ دنیا کے بڑے ممالک کی جانب سے یکطرفہ فیصلوں کے رجحان نے عالمی ادارے کی اہمیت کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔
نیویارک میں موجود بین الاقوامی امور کے ماہرین نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا ادارہ یعنی اقوام متحدہ اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین بحرانوں میں سے ایک سے گزر رہا ہے۔ عالمی سطح پر امن و امان کے قیام اور تنازعات کے حل کے لیے قائم اس ادارے کو اس وقت فنڈز کی شدید کمی، اپنی افادیت اور اہمیت کے فقدان کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل کے اندر پیدا ہونے والے مستقل ڈیڈ لاک جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے بااثر اور طاقتور ممالک کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور اداروں کی پرواہ کیے بغیر یکطرفہ اقدامات اٹھانے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عالمی سفارت کاری کمزور پڑ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں اصلاحات کا مطالبہ طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے تاہم سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے مابین شدید سیاسی اختلافات کی وجہ سے کسی بھی بڑی تبدیلی یا موثر فیصلے تک پہنچنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ موجودہ عالمی تنازعات کے دوران اقوام متحدہ کا کردار مبہم ہو کر رہ گیا ہے کیونکہ طاقتور ممالک اپنے جغرافیائی اور سیاسی مفادات کے تحت ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے مظلوم اور متاثرہ خطہوں کے لیے فوری اور منصفانہ امداد یا سیاسی حل ممکن نہیں رہتا۔ اس صورتحال نے عالمی برادری اور ترقی پذیر ممالک میں شدید مایوسی پیدا کر دی ہے جو کثیرالجہتی سفارت کاری یعنی ملٹی لیٹرلزم پر یقین رکھتے ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر دنیا کے بڑے طاقتور ممالک نے اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی اور اقوام متحدہ کو بااختیار بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ اٹھائے گئے، تو اس ادارے کی حیثیت محض ایک بے اثر فورم تک محدود ہو کر رہ جائے گی جس سے عالمی امن کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔