LIVE
Loading Breaking News...

مانچستر یونائیٹڈ کا مالیاتی خسارہ بڑھ کر 57 ملین ڈالر ہو گیا

News Image
برطانوی فٹبال کلب مانچستر یونائیٹڈ کی ریکارڈ آمدنی کے باوجود مالیاتی خسارے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کلب کا کل قرضہ اب بھی ایک ارب برطانوی پاؤنڈز سے زائد ہے۔
انگلش پریمیئر لیگ کے مشہور فٹبال کلب مانچستر یونائیٹڈ کو ریکارڈ آمدنی حاصل ہونے کے باوجود شدید مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ تازہ ترین مالیاتی رپورٹس کے مطابق کلب کے خسارے میں تقریباً ایک تہائی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ نقصان بڑھ کر 57 ملین ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ کلب کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تجارتی اور نشریاتی شعبوں میں بہترین کارکردگی کی بدولت آمدنی نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے تھے، لیکن اس کے باوجود بڑھتے ہوئے اخراجات اور مالیاتی دباؤ نے منافعے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی بھاری بھرکم تنخواہوں اور ٹرانسفر مارکیٹ میں ہونے والے خطیر اخراجات کی وجہ سے کلب کا بجٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ دوسری جانب مانچستر یونائیٹڈ کے مجموعی مالیاتی بوجھ کے حوالے سے بھی تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ کلب پر واجب الادا قرضہ اب بھی ایک ارب برطانوی پاؤنڈ یعنی تقریباً 1.3 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی سطح پر برقرار ہے۔ اتنی بڑی رقم کا قرضہ اور اس پر ادا کیے جانے والے سود کی کٹوتیوں نے کلب کی مالی صحت کو کمزور کر دیا ہے۔ ریکارڈ آمدنی بھی اس بھاری قرضے کے بوجھ کو ہلکا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے، جو کلب انتظامیہ کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ مانچستر یونائیٹڈ کے شائقین اور سرمایہ کاروں میں اس صورتحال پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کلب کے موجودہ مالکان اور انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس مالی بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کریں۔ مستقبل میں اگر اخراجات پر قابو نہ پایا گیا اور آمدنی کے متبادل ذرائع تلاش نہ کیے گئے، تو کلب کو مزید گہرے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کھیلوں کے معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ مانچستر یونائیٹڈ کو اپنی انتظامی پالیسیوں میں فوری طور پر اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر کلب کی مالیاتی ساکھ کو بحال رکھا جا سکے۔