LIVE
Loading Breaking News...

امریکی پارلیمنٹ میں مصنوعی ذہانت پر سخت پابندیوں کا بل متعارف

News Image
امریکی قانون سازوں نے انتہائی جدید مصنوعی ذہانت کے نظاموں پر پابندی اور وفاقی حفاظتی معیارات کے قیام تک کام روکنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس قانون سازی کا مقصد ملک بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی کے خطرات سے نمٹنا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی قانون سازوں کے ایک نئے گروپ نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ترقی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور سخت قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے۔ اس مجوزہ بل کا مقصد انتہائی جدید اے آئی سسٹمز اور سپر انٹیلی جنس کی دوڑ کو اس وقت تک عارضی طور پر روکنا ہے جب تک کہ باقاعدہ وفاقی حفاظتی معیارات اور ضابطے وضع نہیں کر لیے جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے جہاں ایک طرف بے پناہ معاشی اور سائنسی مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے ممکنہ خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین اور قانون ساز اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بغیر کسی مناسب ضابطے کے کھلا چھوڑ دیا گیا تو یہ انسانی معاشرے کے لیے سنگین مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ تجویز کردہ قانون کے تحت فیڈرل سطح پر ایک ایسا سخت نگراں نظام قائم کیا جائے گا جو تمام ایڈوانسڈ اے آئی ماڈلز کی کڑی جانچ پڑتال کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ قانون اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ کسی بھی نئے اور انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظام کو عوامی سطح پر متعارف کرانے سے پہلے اس کے حفاظتی پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی کے معاملات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی اس بات کا پابند بنایا جانا چاہیے کہ وہ وفاقی قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔ ٹیکنالوجی انڈسٹری پر اس مجوزہ قانون کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ جہاں کچھ حلقے اس قدم کو حفاظتی نقطہ نظر سے انتہائی ضروری قرار دے رہے ہیں، وہیں بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سخت پابندیوں سے تحقیق و ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے اور امریکہ عالمی سطح پر اے آئی کی دوڑ میں پیچھے رہ سکتا ہے۔ تاہم، بل کے حامیوں کا اصرار ہے کہ انسانیت کی بقا اور سلامتی کو ترجیح دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اور کسی بھی بڑے حادثے سے بچنے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ آئندہ دنوں میں اس قانون سازی پر امریکی کانگریس میں مزید بحث متوقع ہے جہاں اس کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔