LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی پابندیوں پر ایران کی دھمکی، ہوائی اڈوں کو خلل کا خطرہ

News Image
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کی ایئر لائنز پر امریکی پابندیوں پر عمل کرنے والے ممالک کے ہوائی اڈوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تہران کی جانب سے یہ بیان فضائی پابندیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس سے بین الاقوامی ہوابازی میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
تہران: ایران نے ان تمام ممالک کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے جو امریکی کی جانب سے عائد کردہ فضائی پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد کر رہے ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں کے نفاذ سے بین الاقوامی ہوابازی کا نظام متاثر ہوگا اور اس عمل میں شامل ممالک کے اپنے ہوائی اڈوں کو بھی شدید تنظیمی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ اور متعلقہ حکام کا ماننا ہے کہ یہ پابندیاں یکطرفہ اور ظالمانہ ہیں، جن کا مقصد ایرانی شہریوں کے بنیادی سفری حقوق کو سلب کرنا ہے۔ امریکہ کی طرف سے ایرانی ایئر لائنز کے خلاف مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن کا مقصد ایرانی ہوابازی کے شعبے کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔ تاہم، ایران کی حالیہ وارننگ نے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس تنازع میں مزید شدت آئی تو اس کا اثر دنیا بھر کے اہم ہوائی اڈوں اور بین الاقوامی پروازوں کے روٹس پر پڑ سکتا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے ہوابازی کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی اور قانونی قدم اٹھائے گا اور اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھے گا۔ بین الاقوامی ہوا باز تنظیموں اور تجزیہ کاروں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ہی عالمی معیشت اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اور ایسے میں اس قسم کی کشیدگی ہوابازی کی صنعت کو مزید بحران میں دھکیل سکتی ہے۔ کئی ممالک اب اس دہے میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ نہ صرف امریکی قوانین کی پاسداری کی جا سکے بلکہ ایران کے ساتھ ممکنہ تنازعات اور ہوائی اڈوں پر متوقع خلل سے بھی بچا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ کون سے ممالک امریکہ کی ان پابندیوں پر کس حد تک عمل کرتے ہیں اور ایران کا اگلا عملی قدم کیا ہوگا۔ تہران نے اپنی پوزیشن بالکل واضح کر دی ہے کہ وہ اس ناانصافی کو برداشت نہیں کرے گا، اور اس کشیدگی کے نتیجے میں عالمی سفارت کاری میں ایک نیا محاذ کھلنے کا قوی امکان موجود ہے۔