Business
وزیراعظم کا آئی ایم ایف اصلاحاتی پروگرام کے نفاذ پر زور
وزیراعظم نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تعاون سے جاری اصلاحاتی پروگرام کے مکمل اور کامیاب نفاذ کے عزم کو دوبارہ دہرایا ہے۔ وزارتِ خزانہ نے پیٹرولیم لیوی سے متعلق میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔
اسلام آباد: وزیراعظم نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تعاون سے جاری معاشی اصلاحاتی پروگرام کے کامیاب اور مؤثر نفاذ کے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔ حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس عزم کا مقصد ملک میں طویل مدتی اقتصادی ترقی کی راہیں ہموار کرنا اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
دریں اثنا، وزارتِ خزانہ نے ان رپورٹس کو یکسر مسترد اور گمراہ کن قرار دیا ہے جن میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ پیٹرولیم لیوی آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کا مرکزی نکتہ یا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ وزارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی قیاس آرائیاں حقائق کے منافی ہیں اور عوام میں بے جا تشویش پھیلانے کا باعث بنتی ہیں۔ حکومت اپنے اہداف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ امور کو شفاف طریقے سے آگے بڑھا رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جائزہ مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے، جس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام شریک ہیں۔ ان مذاکرات میں ملکی معاشی اشاریوں، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کے اقدامات اور طے شدہ اہداف کی پیشرفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ جائزہ مشن پاکستان کی معاشی سمت کے تعین میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔