Pakistan
وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں ایران جنگ کی ثالثی پر زور
وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے تنازع کے خاتمے کے لیے ثالثی کے کردار پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے عالمی رہنماؤں اور اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام اور جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ملک کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ایران اور دیگر فریقین کے درمیان جاری تنازع کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے ختم کرایا جائے۔ وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں کسی بھی قسم کی جنگ یا محاذ آرائی کا حامی نہیں ہے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ایران اور دیگر بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام نے بھی خطے میں امن بحال کرنے کے لیے پاکستان کے اس اہم سفارتی کردار اور رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ دریں اثنا، نیویارک میں اپنے قیام کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی سربراہ سمیت دیگر اہم عالمی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ملکی معیشت کے علاوہ علاقائی امن، سکیورٹی اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اور سفارتی کوششوں کا یہ اعلان عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور ذمہ دارانہ کردار کو اجاگر کرتا ہے، جس کا مقصد خطے کو ایک اور بڑی جنگ کے تباہ کن اثرات سے بچانا ہے۔