LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی صدر پزشکیان کا سعودی عرب سے تعلقات بڑھانے پر زور

News Image
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شاہ سلمان کو بھیجے گئے ایک خصوصی پیغام میں سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس سفارتی پیشرفت کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا اور باہمی تعاون کے نئے دروازے کھولنا ہے۔
تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو ایک خصوصی پیغام ارسال کیا ہے جس میں دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید وسعت دینے کی شدید خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایرانی صدر نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ تہران خطے کے تمام ممالک، بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کو اپنی خارجہ پالیسی میں بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ سفارتی حلقوں کی جانب سے اس پیشرفت کو خطے کے مجموعی تناظر میں انتہائی اہم اور مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں جو بہتری آئی ہے، وہ خطے کے امن، سلامتی اور اقتصادی ترقی کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہو رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ذرائع سے رابطے مسلسل جاری ہیں اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے نئے لائحہ عمل پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایرانی صدر کا یہ تازہ ترین پیغام اس عزم کا عکاس ہے کہ تہران ریاض کے ساتھ اپنے باہمی اعتماد کے رشتے کو مزید گہرا کرنا چاہتا ہے تاکہ خطے کے مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کیا جا سکے۔ دوسری جانب، خطے میں دیگرممالک اور علاقائی تنظیمیں بھی سعودی عرب اور ایران کے مابین تعلقات میں بہتری کا خیرمقدم کر رہی ہیں۔ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل اور خطے کے دیگر رہنماؤں نے بھی سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور اسٹریٹجک شراکت داری کو سراہا ہے۔ پاکستان سمیت خطے کے دیگر اہم ممالک بھی سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ ایرانی صدر کے اس پیغام کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام کے درمیان مزید ملاقاتیں ہوں گی جن میں اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کو عملی جامہ پہنانے پر بات چیت کی جائے گی۔ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے گا بلکہ پورا خطہ ایک پائیدار امن اور ترقی کے دور میں داخل ہو سکے گا۔