Business
سعودی مشرق مغرب پائپ لائن کی بحالی، تیل کی ترسیل شروع
سعودی عرب نے ڈرون حملے کے تیرہ دن بعد اپنی اہم مشرق مغرب خام تیل پائپ لائن پر باضابطہ طور پر آپریشنز دوبارہ بحال کر دیے ہیں۔ اس بحالی کے نتیجے میں پاکستان سمیت ایشیائی خریداروں کے لیے تیل کی برآمدات اور بحیرہ احمر سے ترسیل میں حائل رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں۔
سعودی عرب نے ڈرون حملے کے تیرہ دن کی طویل بندش کے بعد اپنی اہم مشرق مغرب خام تیل کی پائپ لائن پر آپریشنز کا باضابطہ دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی سے عالمی منڈیوں میں تیل کی رسد سے متعلق خدانات میں کمی واقع ہوئی ہے اور ترسیل کا نظام معمول پر آنا شروع ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد پاکستان کے لیے بھی سعودی عرب سے خام تیل کی ترسیل بحال ہو چکی ہے جس سے ملک میں ممکنہ قلت کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات بڑی حد تک کم ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ اس پائپ لائن اور متعلقہ تنصیبات پر ہونے والے حملے کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین متاثر ہوئی تھی جس پر عالمی منڈی کی گہری نظر تھی۔ سعودی آرامکو کی جانب سے ایشیائی ریفائنریز اور خریداروں کے لیے ینبع بندرگاہ سے تیل کی لوڈنگ کے دوبارہ آغاز کے اشارے بھی دیے گئے ہیں جس سے تجارتی حلقوں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پائپ لائن کی مکمل بحالی سے مشرق وسطیٰ سے توانائی کی سپلائی کا تسلسل بحال رہے گا اور خطے کی معاشی سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی۔