Health
مائیگرین کا شدید درد: این ایچ ایس ملازمہ کا کیریئر ختم
برطانیہ میں این ایچ ایس کی ایک سابقہ ملازمہ نے شدید مائیگرین کے دوروں اور مسلسل تکلیف کی وجہ سے اپنا کیریئر خیرباد کہہ دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جی پی نے ان کی تکلیف کو محض ڈرامہ قرار دے کر نظر انداز کر دیا تھا۔
برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) سے وابستہ ایک خاتون کو شدید اور ناقابل برداشت مائیگرین کے دوروں کی وجہ سے اپنا محبوب کیریئر ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنا پڑا ہے۔ لورین نامی اس خاتون کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے تک سر کے اس شدید درد کی وجہ سے ایسی اذیت میں مبتلا رہیں جسے برداشت کرنا ان کے بس سے باہر ہو چکا تھا، تاہم طبی عملے کی جانب سے ان کی شکایات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ لورین کے مطابق جب انہوں نے اپنے فیملی ڈاکٹر یعنی جی پی سے اس تکلیف کا ذکر کیا تو ڈاکٹر نے ان کے درد کو محض ایک ڈرامہ قرار دے کر مسترد کر دیا، جس نے ان کی ذہنی اور جسمانی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ مائیگرین کی یہ بیماری اتنی شدید تھی کہ اس نے ان کی روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا اور وہ اپنے فرائض منصبی انجام دینے سے قاصر ہو گئیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی بلکہ ان کی ذاتی زندگی بھی اس سے شدید متاثر ہوئی۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مائیگرین کوئی معمولی سر درد نہیں ہے بلکہ یہ ایک اعصابی عارضہ ہے جو مریض کو اپاہج بنا سکتا ہے، لیکن تاحال بہت سے طبی اداروں میں اس کی تشخیص اور علاج کے حوالے سے مزید سنجیدہ رویے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ لورین کا یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح دائمی درد میں مبتلا مریضوں کو بعض اوقات ڈاکٹروں کے سرد مہری اور لاپرواہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی زندگیاں مزید کٹھن ہو جاتی ہیں۔ اب وہ اس مرض کے خلاف شعور اجاگر کرنے کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں تاکہ دوسرے مریضوں کو اس طرح کے تلخ تجربات سے نہ گزرنا پڑے۔