LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی اصول: اوپن اے آئی کا اقوام متحدہ سے مطالبہ

News Image
اوپن اے آئی اور اینتھروپک سمیت اہم مصنوعی ذہانت کے اداروں کے سربراہان نے اقوام متحدہ سے عالمی سطح پر خطرے کی جانچ کے معیارات طے کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تیزی سے ترقی کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی ضابطہ کار ناگزیر ہو چکا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے کی سرکردہ کمپنیوں کے سربراہان نے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے ضابطے کے لیے آواز بلند کر دی ہے۔ معروف کمپنی اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمن اور اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو امودی نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کو مصنوعی ذہانت کے خطرات کی جانچ پڑتال کے لیے بین الاقوامی سطح پر معیارات مرتب کرنے چاہئیں۔ اس مطالبے میں ہگنگ فیس کے کلیمنٹ ڈی لانگ بھی شامل ہو چکے ہیں، جو کہ دنیا بھر میں اے آئی کی تیز رفتار ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں جنریٹو اے آئی اور لارج لینگویج ماڈلز کی تیاری میں بے پناہ تیزی آئی ہے، جس کے بعد دنیا بھر کے ماہرین اور قانون ساز اس ٹیکنالوجی کے انسانی سوسائٹی پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے فکر مند ہیں۔ اوپن اے آئی کے سربراہ سام آلٹمن نے ماضی میں بھی کئی بار اس بات پر زور دیا ہے کہ طاقتور ترین اے آئی سسٹمز کے لیے حفاظتی پروٹوکولز اور رسک ایویلو ایشن کے سخت معیارات کا ہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب، اینتھروپک اور ہگنگ فیس جیسی کمپنیاں بھی اس بات پر متفق ہیں کہ قومی سطح کے قوانین ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ مصنوعی ذہانت کی حدود کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہیں۔ ان رہنماؤں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے تاکہ ایک ایسا عالمی فریم ورک تیار کیا جا سکے جو سائنسی ترقی کو بھی روکے بغیر انسانیت کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ امید کی جا رہی ہے کہ ان مطالبات کے بعد عالمی ادارے اور حکومتیں اس سمت میں مزید سنجیدہ اقدامات اٹھائیں گی۔ مصنوعی ذہانت کا شعبہ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں جدت اور سکیورٹی کے درمیان توازن قائم کرنا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔