LIVE
Loading Breaking News...

امریکی قانون سازوں کا اسرائیل کے 'ای ون' ویسٹ بینک منصوبے پر پابندیوں کا مطالبہ

News Image
امریکہ کے کئی قانون سازوں نے اسرائیل کے 'ای ون' ویسٹ بینک سیٹلمنٹ پلان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس منصوبے کے خلاف سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ منصوبہ فلسطینی علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتا ہے جس پر بین الاقوامی سطح پر بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔
امریکہ میں قانون سازوں کے ایک گروہ نے اسرائیل کے متنازع 'ای ون' (E1) ویسٹ بینک سیٹلمنٹ پلان کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے اور پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی تعمیرات کی جانی ہیں جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے فلسطینی خطہ مؤثر طریقے سے دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ امریکی قانون سازوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اور خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہیں۔ اسرائیل کے اس منصوبے پر نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور بین الاقوامی برادری نے اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ دنیا بھر کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بستیوں کی توسیع بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں ناقابل تلافی رکاوٹیں حائل ہوں گی۔ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ منصوبے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے فلسطینی علاقوں کو کاٹ دے گا بلکہ اس سے مقامی فلسطینی آبادی کی نقل و حرکت اور معاشی سرگرمیاں بھی مفلوج ہو کر رہ جائیں گی۔ اس نازک صورتحال کے پیش نظر امریکی قانون سازوں کی جانب سے پابندیوں کا یہ مطالبہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ واشنگٹن کی پالیسی اس خطے میں امن قائم رکھنے کے حوالے سے کلیدی سمجھی جاتی ہے۔ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر امریکی کانگریس کے اندر مزید بحث اور سفارتی سطح پر دباؤ بڑھنے کا قوی امکان ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی مبصرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اسرائیل کو اس منصوبے سے فوری طور پر پیچھے ہٹنا چاہیے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی اور خون خرابے سے بچا جا سکے۔