World
ایرانی صدر پزشکیان کا اقوام متحدہ میں خطاب، امریکہ پر تنقید
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکہ کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم، انہوں نے تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے اور مذاکرات کی پیشکش بھی کی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے خطے میں دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف اختیار کی جانے والی پالیسیاں خطے کے امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں، جنہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ملک کو درپیش چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
خطاب کے دوران ایرانی صدر نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی اور ظالمانہ پابندیوں کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناکہ بندی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے ایرانی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صدر پزشکیان کا یہ بھی کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ اقتصادی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن تہران نے ان پابندیوں کو ناکام بنانے کے لیے متبادل حکمت عملی تیار کر لی ہے جو کامیابی سے نافذ کی جا رہی ہے۔
امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنانے کے باوجود، مسعود پزشکیان نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ سفارتی مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی قسم کی جنگ یا تنازع کا حامی نہیں ہے، بلکہ مسائل کا پرامن حل اور باہمی احترام پر مبنی بات چیت پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں کو دعوت دی کہ وہ تنازعات کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایرانی صدر کا یہ بیان سخت اور نرم رویے کا ایک امتزاج ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر ایران کا مؤقف واضح کرنا اور یہ ظاہر کرنا ہے کہ تہران مذاکرات سے فرار نہیں چاہتا بلکہ منصفانہ شرائط پر بات چیت کا خواہاں ہے۔ اس خطاب کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایران اور امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے، اور دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن تہران کی اس سفارتی پیشکش پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔