LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا ایم ایل او کے عزائم پر اظہارِ عدم اطمینان

News Image
کراچی میں میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) ڈاکٹر اسامہ شیخ کے عزائم کو مشکوک قرار دے دیا ہے۔ کمیشن نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے خلاف مبینہ توہین آمیز اور خطرناک سوشل میڈیا مہم پر سائبر کرائم ایجنسی کو تحقیقات کا حکم بھی جاری کیا ہے۔
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں 25 سالہ تاجر میر رضا علی کے قتل کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) ڈاکٹر اسامہ شیخ کے حوالے سے سخت مشاہدات پیش کیے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ شیخ کے عزائم اور نیتیں مشکوک دکھائی دیتی ہیں اور ان کا رویہ کمیشن کے وقار کو نقصان پہنچانے اور اس کے اصل مقصد کو متنازع بنانے کی ایک کوشش ہے۔ یاد رہے کہ 25 سالہ میر رضا کی لاش 29 جولائی کو ملی تھی جس کے بعد لواحقین نے پولیس پر حقائق چھپانے کا الزام عائد کیا تھا اور سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل ایک رکنی جوڈیشل کمیشن اس کیس کی تحقیقات کر رہا ہے۔ منگل کے روز ہونے والی سماعت کے دوران کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے میر رضا کے پہلے پوسٹ مارٹم کے نتائج پر اعتراض اٹھایا تھا جس کے بعد ڈاکٹر اسامہ شیخ کی ایماء پر ان کے خلاف ایک بدخواہانہ اور توہین آمیز مہم چلائی گئی۔ ڈاکٹر سمیعہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس قسم کی مہم سے ایک خطرناک مثال قائم ہو رہی ہے جہاں کوئی بھی سینئر افسر جونیئر کی غلطی کو درست کرنے سے گریز کرے گا۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک معزز اور تجربہ کار پیشہ ور خاتون افسر کو اس طرح ہراساں کیا جا رہا ہے۔ کمیشن نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے کراچی ڈائریکٹر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈاکٹر سمیعہ سید اور ڈاکٹر اسامہ شیخ کے درمیان ہونے والے پیغامات کے تبادلے اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی توہین آمیز مواد کی فارنزک تحقیقات کریں اور ذمہ داروں کا تعین کرکے کمیشن کی مدت ختم ہونے سے پہلے اپنی جامع رپورٹ پیش کریں۔ سماعت کے دوران کمیشن نے سندھ کے محکمہ صحت کے حکام، ایس ایس پی اور دیگر متعلقہ افسران کو بھی طلب کیا جبکہ مقتول کے لواحقین کے اس خدشے کا بھی نوٹس لیا گیا کہ ایک اور اسپیشل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ جوڈیشل کمیشن نے پولیس اور مقتول کے خاندان کے درمیان بہتر اور مربوط رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سندھ کے انسپکٹر جنرل کو ایک بااختیار پولیس فوکل پرسن مقرر کرنے کی بھی درخواست کی ہے تاکہ میڈیا اور لواحقین کو درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔