Politics
اسحاق ڈار کا فلسطین میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فرانس، برطانیہ اور کینیڈا کی طرف سے بلائے گئے اعلیٰ سطحی بین الاقوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے کے خاتمے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے قبل از 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا اعادہ کیا۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فرانس، برطانیہ اور کینیڈا کے اشتراک سے بلائے گئے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اپنا قبضہ فوری طور پر ختم کرے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے 'دو ریاستی حل: نیویارک اعلامیہ اور جامع امن منصوبے کے ایک سال بعد کا لائحہ عمل' کے عنوان سے منعقدہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی اجلاس میں پاکستان کا مؤقف کھل کر بیان کیا۔ اجلاس کی میزبانی عالمی رہنماؤں نے کی جبکہ اس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلے پر امن کوششوں کی حمایت کی ہے اور تمام عالمی کوششوں کا مقصد فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کو یقینی بنانا ہونا چاہئے۔ انہوں نے اسلام آباد کے دیرینہ مؤقف کو دہرایا کہ قبل از 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خود مختار اور متصل فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ سفارت کاری کو زمینی حقائق کے مطابق کام کرنا ہوگا اور پاکستان اس مقصد کے حصول کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
اسحاق ڈار نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ غزہ میں انسانی المیہ گہرا ہوتا جا رہا ہے اور مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور آباد کاروں کی تشدد پسندی امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قبضے کی یہ مشینری ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہے جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے ستمبر 2025 کے نیویارک اعلامیے، غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو باہم مربوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد معصوم فلسطینیوں کا خون خرابہ بند کرنا اور انسانی امداد کی بلاتعطل ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔
علاوہ ازیں، نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی مختلف عالمی رہنماؤں اور شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ وزیر اعظم نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے سربراہ بل گیٹس سے ملاقات کی جس میں پاکستان سے پولیو کے خاتمے، بچوں کی صحت اور زراعت میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان صحت عامہ اور سماجی ترقی کے شعبوں میں عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے اور اس موقع پر بل گیٹس کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی گئی۔