LIVE
Loading Breaking News...

لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی پنجاب کو توہین عدالت کیس میں طلب کر لیا

News Image
لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چونگی پولیس کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب راؤ عبدالكريم کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے ایف آئی آر کے غیر واضح متن اور پولیس کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے بدھ کے روز چونگی پولیس کے خلاف دائر توہین عدالت کی ایک درخواست پر سماعت کے دوران آئی جی پنجاب راؤ عبدالكريم کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالت عالیہ میں اس کیس کی سماعت کے موقع پر ایس پی عبداللہ چونگی پولیس کی نمائندگی کے لیے پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار میاں محمد جمیل کی جانب سے ایڈوکیٹ شہباز بھٹی عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے سیشن کورٹ کے 2021 کے اس حکم کو معطل کر دیا تھا جس میں ان کے مؤکل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا کہا گیا تھا۔ وکیل کا الزام تھا کہ عدلیہ کے اس حکم کے باوجود پولیس نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درخواست گزار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ جب چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایس پی عبداللہ کو حکم دیا کہ وہ اس ایف آئی آر کو بلند آواز میں پڑھ کر سنائیں تو وہ اس کے مندرجات کو درست طریقے سے پڑھنے یا بیان کرنے سے قاصر رہے جس پر عدالت کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی آر کیوں نہیں پڑھی جا سکتی؟ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس میں کیا لکھا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے پولیس کی تحریر اور شکایت لکھنے کے انداز پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ اس طرح کی ایف آئی آر تو پڑھنے کے قابل بھی نہیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ پورا پنجاب اس صورتحال سے دوچار ہے اور ہر جگہ یہی حال ہے۔ چیف جسٹس نے طنزیہ انداز میں ریمارکس دیے کہ ایف آئی آر میں موجود تحریر تو یوں لگتی ہے جیسے کاغذ پر مکھیاں چل رہی ہوں اور مکھیوں کا سائز بھی اس تحریر سے بڑا ہوتا ہے۔ اس صورتحال پر برہم ہوتے ہوئے چیف جسٹس عالیہ نیلم نے آئی جی پنجاب کو ریکارڈ سمیت جمعرات کے روز ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ آئی جی پنجاب کو ایک دوسرے کیس میں بھی جمعرات کے لیے طلب کیا گیا ہے جہاں عدالت نے لاہور کے سی سی پی او کے خلاف توہین عدالت کے معاملے میں جمع کروائی گئی انکوائری رپورٹ مسترد کر دی تھی۔ یہ دوسری درخواست ایک شہری مومن خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ عد احکام کے باوجود پولیس اہلکار انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس ہراسانی سے متعلق ایک پرانا معاملہ سی سی پی او کو ازالہ کے لیے بھیجا گیا تھا مگر اس کے باوجود پولیس کی جانب سے شہری کو پریشان کرنے کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے عدلیہ کے احکام پر عمل درآمد نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔