Pakistan
اسحاق ڈار کا او آئی سی میں بیان، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی مسترد
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے او آئی سی کے رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنے مفاد کے تحت بین الاقوامی معاہدوں اور ذمہ داریوں کو پس پشت نہیں ڈال سکتا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطل کرنے کے بھارتی اقدام کی شدید مذمت کی۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سیشن کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ بھارت جب چاہے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے (IWT) کی حیثیت کو ثالثی عدالت نے مکمل طور پر برقرار رکھا ہے اور یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے کا مجاز نہیں۔ یاد رہے کہ بھارت نے گزشتہ سال اپریل میں اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش کی تھی جس کے بعد مئی میں دونوں ممالک کے درمیان مختصر فوجی کشیدگی بھی دیکھی گئی تھی۔ اگست میں مستقل ثالثی عدالت (PCA) نے نئی دہلی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے قرار دیا تھا کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے کیونکہ بھارت کے پاس اس کے خاتمے یا معطلی کا کوئی جواز موجود نہیں۔ اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اور دو جوہری ہتھیاروں سے مسلح ممالک کے درمیان معمولی تنازعے پر بھی خطرناک تصادم کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا ہو یا مشرق وسطیٰ، طاقت کا استعمال کسی بھی دیرینہ سیاسی تنازعے کا حل نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت گفت و شنید اور سفارت کاری ہی امن کا واحد راستہ ہے۔ وزیر خارجہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے غیر قانونی اقدامات کا واضح مقصد اس خطے کی ڈیموگرافک اور ثقافتی شناخت کو تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مقبوضہ علاقے میں سیاسی اور شہری فضا کو مکمل طور پر مسدود کر دیا گیا ہے جہاں کشمیری رہنماؤں، صحافیوں اور نوجوانوں کو من مانی حراستوں، تشدد اور کالے قوانین کا سامنا ہے۔ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کس طرح ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، گھر مسمار کیے گئے اور میڈیا کی آزادی پر قدغن لگائی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کسی بھی اندرونی قانون یا عدالتی فیصلے کے ذریعے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نہیں بدل سکتا اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلائے بغیر خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔