World
لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکّہ ڈیفنس الائنس کے سیکرٹری جنرل مقرر
پاکستان آرمی کے تجربہ کار سابق فوجی افسر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین رکنی مکّہ ڈیفنس الائنس کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ الائنس کے ابتدائی دور میں اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل اور علاقائی سکیورٹی کے امور کو آگے بڑھائیں گے۔
تین رکنی مکّہ ڈیفنس الائنس کے پہلے سیکرٹری جنرل کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے والے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود پاکستان آرمی میں فیلڈ کمانڈ، انٹیلی جنس، تزویراتی تجزیے اور عسکری تعلیم کا ایک طویل اور شاندار کیریئر رکھتے ہیں۔ گزشتہ ماہ اتحاد میں شامل تینوں ممالک نے اس بات کا فیصلہ کیا تھا کہ سیکرٹریٹ کی سربراہی کا پہلا عہدہ پاکستانی نامزد امیدوار کو دیا جائے گا۔ اپنے اس پہلے دورِ کار میں لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود الائنس کے ابتدائی سالوں کے دوران ایک سمت متعین کرنے والے رہنما کے طور پر کام کریں گے کیونکہ اس وقت اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تعمیر کا عمل جاری ہے۔ ریاض میں ان کی فوری ذمہ داریوں میں اس نو تشکیل شدہ اتحاد کی مشینری کو مضبوط بنانا شامل ہے، جس کے لیے شریک ممالک کے درمیان قریبی ہم آہنگی اور سیاسی وعدوں کو عملی سکیورٹی انتظامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے ستمبر 1987 میں پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ، مصر کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے فارغ التحصیل ہیں اور وار سٹڈیز میں ماسٹر کی ڈگری رکھتے ہیں۔ ان کے کیریئر کا ایک بڑا حصہ سٹاف کالج میں گزرا جہاں انہوں نے مختلف تربیتی عہدوں پر خدمات انجام دیں اور بعد میں چیف انسٹرکٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس تعیناتی نے انہیں افسران کی تربیت کا وسیع تجربہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عسکری حکمت عملی اور آپریشنل پلاننگ سے بھی روشناس کرایا۔ بطور میجر جنرل انہوں نے شمالی وزیرستان میں انفنٹری ڈویژن کی کمان سنبھالی، جہاں فوج کئی سالوں سے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف تھی۔ ان کا اگلا اہم قدم انہیں میدانِ جنگ سے انٹیلی جنس کمیونٹی میں لے گیا جب انہیں انٹر سروسز انٹیلی جنس میں تجزیہ ڈائریکٹوریٹ کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ آئی ایس آئی میں ان کا کام قومی سکیورٹی کے تناظر میں بیرونی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا، جس سے یہ ذمہ داری پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سٹریٹجک فیصلہ سازی کے لیے انتہائی اہم بن گئی۔ اس عہدے کے ذریعے وہ بیرونی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ بھی رابطے میں رہے۔ اپریل 2019 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد انہیں جی ایچ کیو میں مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انسپکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ اسی سال دسمبر میں وہ پشاور چلے گئے جہاں انہوں نے الیون کور کی کمان سنبھالی۔ کور کمانڈر کے طور پر ان کا دورِ کار پاکستان کی مغربی سرحد پر انتہائی حساس دور سے مطابقت رکھتا تھا، جب امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کی تیاری کر رہا تھا اور پاکستان سرحدی باڑ لگانے اور افغان صورتحال کے اثرات سے نبردآزما تھا۔ انہوں نے نومبر 2021 میں الیون کور کی کمانڈ چھوڑی اور بعد میں انہیں اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا صدر مقرر کر دیا گیا، جہاں وہ اس ادارے کے 35 ویں سربراہ بنے۔ وہ اپریل 2023 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک اس عہدے پر فائز رہے اور 2022 کی تبدیلی کے دوران آرمی چیف کے عہدے کے ممکنہ امیدواروں میں بھی شامل تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کا عسکری کیریئر ان تمام شعبوں پر محیط رہا ہے جو اب نئے الائنس میں ان کے کردار سے براہِ راست مطابقت رکھتے ہیں۔