LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی صدر کا اقوام متحدہ میں خطاب اور طاقتور بننے پر زور

News Image
ایرانی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک دھمکیوں سے بچنے کے لیے طاقتور بنے گا۔ انہوں نے خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کو اپنی خود مختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے ہر لحاظ سے طاقتور بننا ہوگا تاکہ کوئی بھی ملک اسے دھمکی دینے کی جرات نہ کر سکے۔ عالمی मंच پر یہ خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران ایرانی صدر نے دنیا کو خبردار کیا کہ تہران اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے امریکی قیادت کے حالیہ بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دھمکیاں اور دباؤ کی پالیسی ماضی میں کبھی کامیاب نہیں ہوئی اور نہ ہی مستقبل میں کارگر ثابت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور ملک کی دفاعی پوزیشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی صدر کا یہ بیان تہران کی سخت گیر پالیسی اور عزم کا عکاس ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دنیا کو باور کرایا کہ مشرق وسطیٰ میں امن و امان کی خراب صورتحال اور عدم استحکام کی اصل وجہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں دوہرے معیار کو ترک کرے اور فلسطینیوں سمیت دیگر مظلوم اقوام کے حقوق کو تسلیم کرے۔ ایرانی صدر نے واضح کیا کہ تہران ہمیشہ بات چیت اور سفارت کاری کے حق میں رہا ہے لیکن یہ بات چیت برابری کی سطح پر ہونی چاہیے نہ کہ دھونس اور دھمکیوں کے سائے میں۔ اس اہم ترین خطاب نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ مشرق وسطیٰ کے نازک حالات اور ایران کے مووقف کی طرف مبذول کرا دی ہے، جس کے آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارت کاری پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔