Business
وزارت خزانہ کا آئی ایم ایف پروگرام اور پیٹرولیم لیوی پر اہم بیان
وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں پیٹرولیم لیوی کو مذاکرات کا مرکزی نکتہ بتایا گیا تھا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قیاس آرائیاں حقائق کے منافی اور عوام میں ابہام پھیلانے کا باعث بن رہی ہیں۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) وزارتِ خزانہ نے ان میڈیا رپورٹس کو یکسر مسترد اور گمراہ کن قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری یا طے پانے والے پروگرام میں پیٹرولیم لیوی کو 'مرکزی نکتہ' کی حیثیت حاصل ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کی خبریں حقائق پر مبنی نہیں ہیں اور ان کا مقصد معاشی صورتحال کے بارے میں غیر ضروری ابہام پیدا کرنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ تمام معاملات طے شدہ پالیسیوں اور ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری جائزہ مذاکرات کے حوالے سے مختلف پلیٹ فارمز پر تبصرے کیے جا رہے ہیں، جن میں سے بعض میں دعویٰ کیا گیا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں مزید نمایاں اضافے کے لیے دباؤ میں ہے۔ تاہم، وزارتِ خزانہ نے اس تاثر کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی قیاس آرائیاں کرنے سے گریز کیا جائے۔ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور تمام فیصلے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان اور آئی ایم ایف کے حکام کے درمیان اقتصادی جائزے کے سلسلے میں بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے، جس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور دیگر متعلقہ ادارے بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے وقت میں جب اہم مذاکرات جاری ہوں، اس طرح کی غیر مصدقہ اطلاعات مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے میڈیا اور عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی خبر کو نشر یا شیئر کرنے سے قبل متعلقہ سرکاری اداروں کے موقف کا لازمی انتظار کریں۔