LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا ایران کے خلاف بحری اقدام، 115 تجارتی جہاز تبدیل

News Image
امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف نافذ کردہ بحری ناکہ بندی کے تحت اب تک 115 تجارتی بحری جہازوں کا رُخ موڑا جا چکا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جبکہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
واشنگٹن (نیکسو را نیوز اردو) امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری سخت بحری ناکہ بندی کی کارروائیوں کے دوران اب تک 115 تجارتی بحری جہازوں کا رُخ کامیابی کے ساتھ موڑ دیا گیا ہے۔ یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری اور سیاسی کشیدگی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران پر اقتصادی اور تجارتی دباؤ کو مزید بڑھانا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پابندیاں بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر عمل میں لائی جا رہی ہیں تاکہ ایران کی سمندری نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکے۔ دوسری جانب، عالمی سطح پر اس فیصلے کے حوالے سے ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں اور بین الاقوامی منڈیوں میں بھی اس کا اثر دیکھا جا رہا ہے۔ اس بحری ناکہ بندی کے اعلان سے پہلے ہی دونوں ممالک کے درمیان الفاظ کی جنگ عروج پر تھی اور امریکی دھمکیوں کے بعد خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس کشیدہ صورتحال کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان جون کے بعد سے اب تک کی پہلی براہ راست بات چیت بھی منعقد ہوئی ہے، جس میں دونوں فریقین نے اپنے اپنے مؤقف کا دفاع کیا۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور دنیا بھر کے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ گہرے اختلافات خطے کو ایک بڑی تباہی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر بھی اس تنازع کے پرامن حل کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے زور دیا جا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق تاحال انتہائی پیچیدہ اور تشویشناک بنے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں مزید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے کیونکہ دونوں ممالک اپنے عسکری اور سیاسی مؤقف پر سختی سے قائم ہیں۔ تجارتی جہازوں کا رُخ موڑے جانے کے اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر خلیجی خطے کی سمندری گزرگاہوں کی سکیورٹی کو عالمی مباحثے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں کسی بھی غلطی کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔