World
پرنسس ڈائنا کے بھائی چارلس سپینسر کی کتاب اور شاہی خاندان پر تنقید
پرنسس ڈائنا کے بھائی ارل چارلس سپینسر کی نئی یادداشتوں پر مبنی کتاب نے شاہی خاندان میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد برطانوی عوام میں بھی اس کی خریداری کا زبردست رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
برطانوی شاہی خاندان میں ایک بار پھر تناؤ کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ پرنسس ڈائنا کے بھائی ارل چارلس سپینسر نے اپنی نئی یادداشتوں پر مشتمل کتاب میں شاہی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پرنسس ڈائنا کے انتقال کو کئی دہائیوں کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن ان کی یادیں اور شاہی خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات آج بھی خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ چارلس سپینسر کی اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد برطانوی شاپنگ مارکیٹس میں اس کی کاپیاں ہاتھ و ہاتھ فروخت ہو رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام آج بھی ڈائنا اور ان کے خاندان سے جڑی کہانیوں میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ کتاب کے مندرجات اس قدر سنسنی خیز اور تلخ حقائق پر مبنی ہیں کہ اس نے شاہی محل میں بھی ایک نئی بحث اور لفظی جنگ کو جنم دے دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، چارلس سپینسر نے اپنی اس کتاب میں کئی ایسے پوشیدہ گوشوں سے پردہ اٹھایا ہے جو اس سے قبل منظر عام پر نہیں آئے تھے۔ کتاب کے حوالے سے شاہی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے، جب کہ عام قارئین اور ڈائنا کے چاہنے والے اسے بے صبری سے پڑھ رہے ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت نے جہاں شاہی خاندان کے ماضی کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے ہیں، وہیں چارلس سپینسر کو بھی ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔ برطانوی میڈیا میں اس کتاب کے مختلف اقتباسات پر تبصرے جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کے مزید اثرات سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔