World
یو ایس ایس ابراہم لنکن کے آٹھ ملاحوں کی خودکشی کی کوشش
امریکی بحریہ نے تصدیق کی ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات آٹھ ملاحوں نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔ اس واقعے کے بعد بحریہ نے عملے کی ذہنی صحت اور معاونت کے حوالے سے وضاحت جاری کی ہے۔
امریکی بحریہ کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن (USS Abraham Lincoln) پر تعینات آٹھ امریکی ملاحوں نے طویل تعیناتی کے دوران خودکشی کی کوشش کی۔ اس افسوسناک واقعے نے امریکی فوج میں اہلکاروں کی ذہنی صحت اور ان کے دباؤ کے مسائل کو ایک بار پھر قومی سطح پر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ سینیٹر کرسٹن گِلبرینڈ کے نام لکھے گئے ایک خط میں، قائم مقام نیوی سیکرٹری ہنگ کاؤ نے بتایا کہ اس طویل اور دشوار گزار بحری سفر کے دوران جہاز پر موجود عملے کو ذہنی صحت کی مناسب معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔
امریکہ کے دفاعی اور بحریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ فوجیوں کی فلاح و بہبود کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہر اہلکار کو بوقتِ ضرورت کونسلنگ اور طبی امداد میسر ہو۔ طویل مدتی تعیناتیاں، اہلکاروں کا اپنے اہل خانہ سے طویل عرصے تک دور رہنا اور بحری جہازوں پر کام کرنے کا سخت ماحول اکثر فوجیوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اسی تناظر میں، حالیہ مہینوں میں امریکی فوج کے اندر خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سینیٹر کرسٹن گِلبرینڈ اور دیگر قانون سازوں کی جانب سے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوجیوں کو ذہنی دباؤ سے نکالنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا انفرادی سطح پر کسی قسم کی غفلت تو نہیں برتی گئی یا نظام میں مزید بہتری کی کیا گنجائش موجود ہے۔ امریکی فوج اس طرح کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ہیلپ لائنز اور آن لائن کونسلنگ سسٹمز کو مزید فعال بنانے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے اور اپنے اہلکاروں کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں۔