World
روسی مقبوضہ اولیشکی شہر میں خوراک کا بحران اور شہریوں کی مشکلات
روسی فوج کے قبضے میں موجود یوکرین کے شہر اولیشکی کے رہائشیوں کو شدید خوراک اور پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل بمباری کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں اور گزارے کے لیے باغوں کے پودے کھانے پر مجبور ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے روسی مقبوضہ یوکرینی قصبے اولیشکی کے باسیوں نے انکشاف کیا ہے کہ وہ انتہائی کسمپرسی اور خوف کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مکینوں کے مطابق قصبے کو پانی اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے اور امدادی سامان کی ترسیل بند ہونے کی وجہ سے انسانی بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں نے بتایا کہ وہ مسلسل ہونے والی گولہ باری کے درمیان اپنے گھروں میں محصور ہیں اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہو چکے ہیں۔
صورتحال اتنی بگڑ چکی ہے کہ قصبے کے باسی پیٹ کی آگ بجھانے اور زندہ رہنے کے لیے اب باغات میں اگنے والی جنگلی جڑی بوٹیاں اور پتے کھانے پر مجبور ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق پینے کے صاف پانی کا حصول بھی روزانہ کا ایک بڑا عذاب بن چکا ہے کیونکہ پانی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بجلی معطل ہے۔ گولہ باری کی گونج میں لوگوں کے لیے گھر سے باہر نکلنا بھی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے اس خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال اور شہریوں کی مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں عام شہریوں تک خوراک، ادویات اور پانی کی رسائی کو یقینی بنانا فریقین کی ذمہ داری ہے۔ دوسری جانب اولیشکی میں پھنسے ہوئے باسیوں نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ ان کی جانیں بچائی جا سکیں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کی جا سکے۔