Business
پروٹین کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور پروٹینفلیشن کا نیا رجحان
مہنگائی کے اس دور میں اب صحت مند غذا کے شوقین افراد کو 'پروٹینفلیشن' کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں پروٹین کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ فٹنس کے متوالے اس ضروری جزو کو حاصل کرنے کے لیے ایک تھیلی کے عوض سو پاؤنڈ تک خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔
عالمی سطح پر مہنگائی کے اثرات اب فٹنس اور صحت بخش غذاؤں تک بھی پہنچ چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ماہرین معاشیات نے 'پروٹینفلیشن' کی اصطلاح متعارف کرائی ہے۔ جم جانے والے اور اپنی صحت کا خیال رکھنے والے افراد پروٹین کی آسمان چھوتی قیمتوں کی وجہ سے شدید مالی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ پروٹین پاؤڈر اور دیگر سپلیمنٹس کی ایک سنگل تھیلی کے لیے صارفین کو سو پاؤنڈ تک کی خطیر رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
صحت کے حوالے سے باشعور طبقہ پروٹین کو اپنی روزمرہ خوراک کا لازمی حصہ سمجھتا ہے، لیکن اس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان کے ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سپلیمنٹس تیار کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ خام مال، پیکنگ اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے مصنوعات مہنگی ہوئی ہیں۔ اس کے برعکس، عام صارفین کا کہنا ہے کہ منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی کی وجہ سے پروٹین جیسی بنیادی ضرورت ان کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مہنگائی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو عامتہ الناس کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنانا ایک خواب بن جائے گا۔ غذائی ماہرین اس صورتحال میں پروٹین کے متبادل اور سستے ذرائع تلاش کرنے پر زور دے رہے ہیں تاکہ مہنگائی کے باوجود جسمانی توانائی اور صحت کو برقرار رکھا جا سکے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس شعبے میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے تاحال کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔