World
نیدرلینڈز میں خواتین کے جسمانی اعضا کے لیے نئے الفاظ کا تعارف
نیدرلینڈز میں مہم جوؤں نے خواتین میں جسمانی شرمندگی کو کم کرنے اور جنسی طور پر مثبت رویے کو فروغ دینے کے لیے جسم کے مخصوص حصوں کے نئے نام متعارف کرائے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ معاشرے میں نظر آتی ہیں اور ان کے جسم کے حوالے سے پائی جانے والی جھجھک ختم ہو سکے۔
نیدرلینڈز میں مہم جوؤں اور ماہرین نے خواتین کے جسم کے مخصوص حصوں کے لیے بالکل نئے اور مثبت الفاظ متعارف کروائے ہیں تاکہ معاشرے میں پائی جانے والی نامعلوم جھجھک اور شرمندگی کا خاتمہ کیا جا سکے اس اقدام کا بنیادی مقصد خواتین کو اپنے جسم کے حوالے سے زیادہ پراعتماد بنانا اور ان میں صحت مند رویوں کو پروان چڑھانا ہے تاکہ وہ خود کو معاشرے میں نمایاں اور نظر آنے والا محسوس کر سکیں۔
ماضی میں خواتین کے جسمانی اعضا کے نام لینے یا ان پر کھل کر بات کرنے کو ایک بڑا سماجی ٹیبو سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے اکثر خواتین اپنے جسمانی خد و خال کے حوالے سے غیر یقینی اور شرمندگی کا شکار رہتی تھیں۔ مہم جوؤں کا ماننا ہے کہ زبان میں اس تبدیلی سے نہ صرف طبی گفتگو میں آسانی ہوگی بلکہ نام نہاد باڈی شیمنگ کے رجحان میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی جو اکثر خواتین کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
نئے الفاظ کے اس استعمال سے معاشرتی سوچ میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ جنسی صحت اور جسمانی ساخت کے بارے میں کھلے عام اور بغیر کسی خوف کے بات چیت کی جا سکے۔ ماہرین صحت نے اس قدم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ہم جسم کے حصوں کے نام لینے سے کتراتے رہیں گے تب تک اس سے جڑے مسائل کو حل کرنا ناممکن رہے گا اس لیے یہ لسانی تبدیلی سماجی سطح پر ایک اہم سنگ میل ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ اس مہم کے نتیجے میں نیدرلینڈز میں نوجوان نسل بالخصوص خواتین زیادہ بہتر اور مثبت سوچ کی حامل بن سکیں گی۔ سماجی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تعلیم اور صحت کے اداروں میں بھی اس قسم کے مثبت الفاظ کا استعمال عام کیا جائے تاکہ آنے والے دنوں میں صنفی مساوات اور جسمانی خود اعتمادی کی فضا کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔