Business
ٹیکساس شمسی توانائی کی پیداوار میں امریکہ کا سب سے بڑا صوبہ بن گیا
امریکہ کی ریاست ٹیکساس نے تیل کی پیداوار کے ساتھ ساتھ اب شمسی توانائی کے میدان میں بھی بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ ریاست اب ملک بھر میں شمسی فارموں سے بجلی پیدا کرنے والا سب سے بڑا خطہ بن چکی ہے۔
امریکہ کی ریاست ٹیکساس، جسے روایتی طور پر تیل اور گیس کی صنعت کا دارالحکومت سمجھا جاتا ہے، اب توانائی کی دنیا میں ایک نئے انقلاب سے گزر رہی ہے۔ یہ ریاست روایتی ایندھن کے ساتھ ساتھ اب قابلِ تجدید توانائی بالخصوص شمسی توانائی کے فروغ میں بھی سب سے آگے نکل آئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ٹیکساس اب امریکہ میں شمسی فارموں کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والا سب سے بڑا خطہ بن گیا ہے۔ یہ تبدیلی اس خطے کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماضی میں اس خطے کی معیشت کا انحصار زیادہ تر فوسل فیول اور پٹرولیم مصنوعات پر رہا ہے، لیکن اب یہاں سورج کی روشنی سے استفادہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر سولر پراجیکٹس لگائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکساس کی جغرافیائی پوزیشن اور یہاں سال بھر وافر مقدار میں سورج کی روشنی کی موجودگی اس شعبے کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ سرمایہ کاروں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کی جانب سے یہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں ریاست کے دور دراز علاقوں میں وسیع و عریض سولر فارمز قائم کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبے نہ صرف مقامی سطح پر بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کر رہے ہیں بلکہ ماحول دوست توانائی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس تبدیلی سے مقامی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ہزاروں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اقتصادی اور ماحولیاتی دونوں نقطہ نظر سے ٹیکساس کی یہ کامیابی امریکہ بھر میں قابلِ تقلید مثال بن چکی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ روایتی توانائی کے مراکز بھی صاف ستھری توانائی کی طرف کامیابی سے منتقل ہو سکتے ہیں۔