LIVE
Loading Breaking News...

غزہ کی تعمیر نو: ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کا 2.45 ارب ڈالر کا منصوبہ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقدہ اجلاس میں غزہ کی بحالی کے لیے 2.45 ارب ڈالر کے بڑے منصوبے کی نقاب کشائی کی ہے۔ اس فنڈ کا مقصد جنگ سے متاثرہ خطے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور عوام کی مشکلات کا ازالہ کرنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت قائم کردہ 'بورڈ آف پیس' نے غزہ کی جنگ سے تباہ حال عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے ایک انتہائی اہم اور بڑے مالیاتی منصوبے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کل 2.45 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی تاکہ جنگ زدہ علاقے کے عوام کی زندگیوں کو معمول پر لایا جا سکے اور تباہ ہونے والے مواصلاتی نظام، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو دوبارہ تعمیر کیا جا سکے۔ اس اہم پیش رفت کا اعلان نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے سائیڈ لائنز پر منعقدہ بورڈ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا۔ اجلاس میں شریک اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں فوری طور پر تعمیر نو کے کاموں کا آغاز کیا جانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ انسانی بحران کو مزید گہرا ہونے سے روکا جا سکے۔ اس فنڈنگ کے ذریعے نہ صرف رہائشی مکانات کی تعمیر نو کی جائے گی بلکہ پانی، بجلی اور صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ عالمی رہنماؤں اور ماہرین نے اس اقدام کو غزہ میں پائیدار امن اور استحکام کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے، تاہم اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ منصوبے کی کامیابی کے لیے فریقین کے درمیان مکمل تعاون اور سیکیورٹی کی ضمانت انتہائی ضروری ہوگی۔ بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ فنڈز کی شفاف تقسیم اور بروقت استعمال کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی اداروں کی نگرانی میں ایک خصوصی لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے، جس پر جلد عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔