AI
اوپن اے آئی اور اینتھروپک کا اقوام متحدہ میں اے آئی ضابطہ کار کا مطالبہ
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی معروف کمپنیوں کے چیف ایگزیکسٹوز نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی سطح پر ضابطہ کار بنائے جائیں۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے مصنوعی ذہانت کے لیے نئی پابندیاں یا حفاظتی اقدامات عائد کرنے سے گریز کا عندیہ دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی صنعت کی معروف ترین کمپنیوں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے سربراہان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس نئے اور تیزی سے ترقی پذیر دور میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر سخت ضابطہ کار وضع کیے جائیں۔ ان رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اے آئی کی لامحدود صلاحیتیں جہاں انسانیت کے لیے بے پناہ فوائد لا رہی ہیں، وہیں اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اے آئی کی نگرانی کے حوالے سے پالیسی سازی میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکہ میں سیاسی منظر نامے کے تحت ٹرمپ انتظامیہ نے اے آئی کے شعبے میں نئی حکومتی رکاوٹیں یا حفاظتی بند باندھنے سے بظاہر گریز کا رویہ اختیار کیا ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ضرورت سے زیادہ ضابطہ بندی اور پابندیاں امریکی ٹیکنالوجی کی جدت اور رفتار کو سست کر سکتی ہیں، جس سے عالمی مسابقت میں ملک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ امریکی حکومت کی اس ہچکچاہٹ نے دنیا بھر کے پالیسی سازوں کو فکر میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ امریکہ اس وقت اے آئی تحقیق اور ترقی کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
صنعت کے اندرونی حلقوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر کسی ضابطے کے مصنوعی ذہانت کا فروغ معاشرے کے لیے بڑے پیمانے پر سکیورٹی اور اخلاقی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ غلط معلومات کے پھیلاؤ، ڈیٹا کی رازداری، اور خودمختار ہتھیاروں کے خطرات ایسے پہلو ہیں جن پر عالمی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے اداروں کے صدور کا اقوام متحدہ سے رجوع کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب کارپوریٹ ادارے بھی اس بات کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ صرف نجی ضابطہ اخلاق کافی نہیں ہیں۔
آنے والے دنوں میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ عالمی رہنما، اقوام متحدہ کے ادارے اور بڑی ٹیک کمپنیاں اس معاملے پر مزید مذاکرات کریں گی۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکی انتظامیہ اپنے موقف میں نرمی لاتی ہے یا دنیا بھر کے دیگر ممالک یکطرفہ طور پر اے آئی کے حفاظتی قوانین پر پیش رفت کرتے ہیں۔ بہرحال، مصنوعی ذہانت کا یہ معرکہ اب صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ عالمی سیاست اور معیشت کا ایک اہم ترین موڑ بن چکا ہے۔