LIVE
Loading Breaking News...

ایران جنگ اور مذاکرات: تہران کا اقوام متحدہ میں دوٹوک مؤقف

News Image
ایرانی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی بدمعاشی یا دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایران بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔
تہران نے اپنے ایک سخت اور دوٹوک مؤقف میں واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی دھمکیوں یا دباؤ کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا۔ یہ اہم بیان ایرانی صدر کی طرف سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے سامنے آیا ہے جہاں انہوں نے دنیا کو باور کرایا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اپنے خطاب کے دوران ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ملک کو غیر ضروری دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے زیر کرنے کی کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔ تہران کسی بھی جارحیت یا دباؤ کی سیاست کے آگے نہیں جھکے گا اور اپنے دفاع کا بھرپور حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی اور تناؤ کے پس منظر میں انتباہ جاری کیا کہ یکطرفہ دباؤ کی پالیسی خطے کے امن کو مزید تباہ کر سکتی ہے۔ اس سب کے باوجود، ایرانی قیادت نے سفارتی ذرائع کو کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تہران بین الاقوامی تنازعات کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے گریز نہیں کرے گا۔ ایران اب بھی مسائل کے سیاسی حل کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ فریقین باہمی احترام اور انصاف کے اصولوں پر کاربند رہیں۔ عالمی سیاسی تجزیہ کار اس بیان کو ایران کی جانب سے ایک متوازن حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، جس میں ایک طرف عسکری و سیاسی دباؤ کے خلاف مزاحمت کا عزم ظاہر کیا گیا ہے تو دوسری طرف سفارت کاری کے لیے گنجائش بھی چھوڑی گئی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اس دوٹوک پیغام کے بعد علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے کوئی نیا سفارتی راستہ نکل پاتا ہے یا نہیں۔