Pakistan
پنجاب میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل کرنے کا فیصلہ، پی ٹی آئی مارچ کا پس منظر
پنجاب کے محکمۂ داخلہ نے وفاقی حکومت کو خط لکھ کر اٹک اور راولپنڈی کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مجوزہ طویل مارچ کے دوران امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنا اور سکیورٹی خدشات سے نمٹنا ہے۔
لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مجوزہ لانگ مارچ اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پنجاب حکومت نے وفاقی وزارتِ داخلہ کو ایک اہم خط ارسال کیا ہے۔ اس خط میں صوبے کے حساس اضلاع خصوصاً راولپنڈی اور اٹک کے مخصوص علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کو عارضی طور پر معطل کرنے کی باضابطہ درخواست کی گئی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ سکیورٹی کے پیش نظر معلومات کے تبادلے کو محدود کرنا امن و امان کی بحالی کے لیے ناگزیر ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ممکنہ بدامنی اور قانون ہاتھ میں لینے کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔ سکیورٹی اداروں کی جانب سے رپورٹس دی گئی تھیں کہ مارچ کے دوران شرپسند عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے افواہیں پھیلا سکتے ہیں اور ٹریفک یا امن عامہ کو شدید نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں پنجاب کے محکمہ داخلہ نے فوری بنیادوں پر سخت حفاظتی اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کو ملانے والی دو بڑی شاہراہوں کو بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا ہے۔ ان راستوں پر کنٹینرز اور بھاری پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے اور شہر میں داخلے کے تمام راستوں کو مکمل طور پر سیل رکھا جائے۔ مسافروں اور عام شہریوں کو بھی متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنا اور عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ اگرچہ انٹرنیٹ کی معطلی سے معمولاتِ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کو সাময়িক طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں سیاسی کشیدگی کو کم کرنے اور کسی بڑے حادثے کو ٹالنے کے لیے یہ سخت فیصلے ناگزیر سمجھے جا رہے ہیں۔ صورتحال پر وفاقی اور صوبائی وزاتیں مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔