LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا اینٹی ویپنائزیشن فنڈ آگے بڑھانے کا اعلان اور اٹارنی جنرل کا تنازع

News Image
امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے نامزد کردہ اٹارنی جنرل کی منظوری نہیں دی گئی تو وہ اس متنازع فنڈ کے حصول کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔ یہ بیان دونوں دھڑوں کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے متنازع 'اینٹی ویپنائزیشن' فنڈ کے قیام اور اس کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں ان کے نامزد کردہ اٹارنی جنرل کی توثیق کے معاملے پر سیاسی حلقوں میں شدید رسہ کشی اور تعطل پایا جاتا ہے۔ ٹرمپ اور ان کے سیاسی حریفوں کے درمیان اس اہم عہدے پر تقرری کو لے کر کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر سینیٹ یا متعلقہ کمیٹیوں کی طرف سے ان کے اٹارنی جنرل کے انتخاب کو منظوری نہیں دی جاتی، تو وہ اس فنڈ کے معاملے پر پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ اس فنڈ کو ناقدین کی طرف سے انتہائی متنازع قرار دیا جا رہا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس کے قریبی حامیوں کا مؤقف ہے کہ حکومتی اداروں کے مبینہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس قسم کے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اس صورتحال نے امریکی دارالحکومت میں سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ قانون سازوں کے مابین اس معاملے پر تقسیم واضح نظر آ رہی ہے جہاں ایک طرف ریپبلکن رہنما صدر کے اس موقف کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں دوسری جانب اپوزیشن ارکان اس فنڈ کے مقاصد اور قانونی حیثیت پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بحث کے پارلیمنٹ میں مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اٹارنی جنرل کی تقرری کا یہ تنازع آنے والے مہینوں میں انتظامیہ اور قانون ساز اداروں کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے فنڈ کے حصول کا عزم یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے طے شدہ ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے کسی بھی سیاسی رکاوٹ کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں ہیں، جس سے حکومتی امور میں مزید محاذ آرائی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔