Pakistan
پنجاب میں پی ٹی آئی مارچ: چار اضلاع میں رینجرز طلب
پی ٹی آئی کے مجوزہ اسلام آباد مارچ کے پیش نظر پنجاب حکومت نے وزارت داخلہ کو خط لکھ کر چار اہم اضلاع میں سیکیورٹی کے لیے رینجرز کی تعیناتی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے راولپنڈی اور اٹک سمیت دیگر حساس علاقوں میں رینجرز کی کمپنیاں اور ونگز تعینات کرنے کی سفارش کی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے متوقع اسلام آباد کے احتجاجی مارچ کے پیش نظر پنجاب حکومت نے صوبے کے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں صوبائی حکومت نے وزارت داخلہ کو ایک باضابطہ درخواست ارسال کی ہے جس میں چار اضلاع میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کے لیے رینجرز کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ممکنہ کشیدگی اور امن و امان کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے ذرائع کے مطابق، راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے رینجرز کی تین کمپنیاں طلب کی گئی ہیں تاکہ اہم شاہراہوں اور سرکاری تنصیبات کی سیکیورٹی کو فول پروف بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، حساس سمجھے جانے والے ضلع اٹک کے لیے بھی رینجرز کے پانچ ونگز تعینات کرنے کی پرزور سفارش کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور کسی بھی غیر قانونی اجتماع یا دنگے فساد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبائی انتظامیہ کا یہ اقدام سیاسی ہلچل اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد عوام کے جان و مال کا تحفظ اور ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف نے اپنے اعلان کردہ مارچ کے لیے تیاریاں تیز کر دی ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں پر کڑے حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اور پنجاب کے مختلف حصوں میں دفعہ 144 نافذ کی جا چکی ہے اور پولیس کے ساتھ ساتھ اب نیم فوجی دستوں کی طلبی سے صورتحال مزید سخت ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔