Politics
رانا ثناء اللہ کا بیان: لانگ مارچ سے پہلے پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہو سکتے
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ ملتوی ہونے تک ان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جب تک پاکستان تحریک انصاف اپنا لانگ مارچ ملتوی یا ختم نہیں کرتی، اس وقت تک پارٹی کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی مذاکرات کا آغاز ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی عمل میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں لیکن دھونس اور دباؤ کی سیاست کے تحت مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، ایسی فضا میں کسی بھی قسم کی بامقصد گفتگو کا انعقاد انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ہمیشہ جمہوری اقدار اور آئین کے دائرہ کار میں رہ کر معاملات کو حل کرنے کی ترجیح دی ہے، لیکن ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنے اور امن عامہ کو سبوتاژ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے خبردار کیا کہ اگر مظاہرین نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی یا ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ریاست کے پاس قانون کے مطابق سخت اقدامات اٹھانے کا اختیار موجود ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ تصادم کی سیاست ترک کریں اور پارلیمانی فورمز یا دیگر سیاسی ذرائع سے اپنے مطالبات پیش کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں استحکام اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور کسی بھی گروہ کو غیر آئینی طریقوں سے اپنے مطالبات تسلیم کرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بات چیت کے لیے سازگار ماحول کا ہونا ناگزیر ہے، اور موجودہ کشیدہ صورتحال میں جب تک پی ٹی آئی کی طرف سے لانگ مارچ کا فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا، تب تک مذاکرات کی میز پر بیٹھنا بے سود ہوگا۔