LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی مارچ: اسلام آباد اور پنجاب میں سخت لاک ڈاؤن اور سیکیورٹی نافذ

News Image
حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے متوقع احتجاجی مارچ کو ناکام بنانے کے لیے دارالحکومت اسلام آباد اور صوبہ پنجاب میں سخت سیکیورٹی انتظامات کرتے ہوئے اہم راستے بند کر دیے ہیں۔ پی ٹی آئی نے حکومتی اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اسلام آباد اور صوبہ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متوقع احتجاجی مارچ کو روکنے کے لیے حکومت نے سخت ترین حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے دارالحکومت اسلام آباد کو عملاً لاک ڈاؤن کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے اور سڑکوں پر ہجوم کو جمع ہونے سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب صوبہ پنجاب میں بھی صورتحال کشیدہ ہے جہاں حکومت نے پی ٹی آئی کے مارچ کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جو کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک نافذ العمل رہے گی۔ اطلاعات کے مطابق مارچ کے شرکاء کو روکنے کے لیے دریائے چناب اور جہلم کے پلوں کو بند کرنے کی تیاریاں عروج پر ہیں تاکہ صوبے کے مختلف شہروں سے آنے والے قافلوں کو دارالحکومت کی طرف پیش قدمی سے روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ اہم شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر بھاری پولیس نفری تعینات کی گئی ہے اور کنٹینرز لگا کر راستے بند کیے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے حکومتی اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ تمام اقدامات محض سیاسی انتقام کا تسلسل ہیں اور عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس کشیدگی کے بعد مزید تناؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں اطراف سے تیاریاں عروج پر ہیں۔