Politics
امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کے وائٹ ہاؤس میڈیا بین کیخلاف بڑا فیصلہ
امریکی عدالت نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے چند اہم میڈیا اداروں پر عائد کردہ پریس رسائی کی پابندی کو عارضی طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے انتظامیہ کو فوری طور پر سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔
امریکہ میں ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں چند چیدہ چیدہ میڈیا اداروں کی رسائی پر عائد کردہ پابندی کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے جاری کردہ حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والے مختلف اہم اداروں پر لگائی جانے والی یہ پابندی غیر منصفانہ ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔ عدالت نے انتظامیہ کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو جیسے معروف خبر رساں اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں پریس کور میں دوبارہ رسائی فراہم کرے۔ اس عدالتی فیصلے کو صحافتی آزادی کے حامیوں کی ایک بڑی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل انتظامیہ نے ان اداروں کے داخلے پر سخت قدغنیں لگا دی تھیں۔ دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کے قانونی نمائندوں نے عدالت میں اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس میں رسائی کوئی بنیادی آئینی حق نہیں بلکہ ایک ایسا استحقاق ہے جسے حکام اپنی صوابدید پر منظم کر سکتے ہیں۔ حکومتی وکلاء کا اصرار تھا کہ انتظامیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے یا پیشہ ورانہ رویے پر سوال اٹھنے پر کسی بھی ادارے کے نامہ نگاروں کے پاسٹس منسوخ کرے۔ تاہم، عدالت نے حکومتی دلائل کو فی الحال ناکافی قرار دیتے ہوئے پابندی پر عملدرآمد روک دیا اور فریقین کو مزید قانونی کارروائی کے لیے طلب کر لیا ہے۔ اس قانونی جنگ سے امریکہ میں انتظامیہ اور آزاد میڈیا کے تعلقات ایک بار پھر شدید تناؤ کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ میڈیا تنظیمیں اس اقدام کو سنسرشپ کے مترادف قرار دے رہی ہیں۔