World
تہران کا کینیڈا پر تنقید، ٹرمپ کی دھمکی کی مذمت نہ کرنے کا معاملہ
ایران نے کینیڈا کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی کو محض جنگی زبان قرار دے کر نظرانداز کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ کینیڈا کا امریکی زبان کی نقل کرنا اسے کسی بھی طرح محفوظ نہیں رکھ سکتا۔
تہران نے کینیڈا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی کی کھل کر مذمت نہیں کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کینیڈین وزیراعظم کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر اس دھمکی کو محض 'جنگی زبان' قرار دے کر ہلکا کرنے کی کوشش کی تھی۔ تہران کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر امنگوں اور قوانین کے داعی ممالک کو اس قسم کے خطرناک بیانات پر دوغلا پن نہیں اپنانا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکی دھمکیوں کے سامنے خاموشی اختیار کرنا یا ان کی توجیہہ پیش کرنا دراصل جارحیت کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ کینیڈا کی طرف سے اس قسم کے بیانات کی تائید یا اسے ہلکا سمجھنا بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ امریکی زبان کی نقل کرنے سے کینیڈا کو کوئی دفاعی یا سیاسی تحفظ نہیں ملے گا بلکہ اس سے کینیڈا کا اپنا اخلاقی وقار بھی مجروح ہوتا ہے۔
دوسری جانب کینیڈا کے اندر اور باہر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے جہاں مختلف حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی ناقابل قبول ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ کی پہلے سے ہی کشیدہ صورتحال میں اس قسم کے بیانات خطے کے امن کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ ایران نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس طرح کے دھمکی آمیز رویوں کے خلاف دوٹوک موقف اختیار کرے تاکہ عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔