Technology
ایلون مسک کی نئی پیشگوئی: انسانی دنیا میں روبوٹس کا غلبہ
ٹیکنالوجی کی معروف شخصیت ایلون مسک نے پیشگوئی کی ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا میں انسانوں کے مقابلے میں روبوٹس کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ ایک سے دو دہائیوں میں کرہ ارض پر اربوں ہیومنائڈ روبوٹس موجود ہوں گے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف ارب پتی اور انوویشن کےلمبردار ایلون مسک نے ایک بار پھر مستقبل کے حوالے سے حیرت انگیز پیشگوئی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں زمین پر انسانوں کے مقابلے میں روبوٹس کی تعداد کہیں زیادہ ہو جائے گی اور یہ ہیومنائڈ روبوٹس ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن جائیں گے۔ ایلون مسک کے مطابق، اگلے دس برسوں کے اندر ہی دنیا بھر میں ایک ارب جبکہ اگلے بیس برسوں میں تقریباً سو ارب ہیومنائڈ روبوٹس موجود ہونے کا امکان ہے۔
میڈیا رپورٹس اور ایکسکلوسیو انٹرویوز کے دوران مسک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روبوٹکس کی یہ صنعت انتہائی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس شعبے میں چین کی کارکردگی اور مارکیٹ کا رجحان بھی قابلِ تعریف ہے۔ چین کے روبوٹکس اسٹاکس میں اس پیشگوئی کے بعد نمایاں بہتری اور استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار بھی مستقبل کی اس ٹیکنالوجی پر بھرپور اعتماد کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ گھریلو اور دفتری امور میں بھی ان روبوٹس کا استعمال عام ہو جائے گا۔
ایلون مسک کا یہ بھی ماننا ہے کہ مستقبل کا کاروباری ماحول آج سے بالکل مختلف ہوگا۔ ایک ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب صرف ایک شخص ہزاروں روبوٹس کو شیڈول کر کے پوری کمپنی کامیابی کے ساتھ چلا سکے گا۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف پیداواری صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دے گی بلکہ انسانی مزدوری کے تصور کو بھی یکسر بدل کر رکھ دے گی۔ تاہم، اس انقلاب کے ساتھ معاشتی اور حفاظتی چیلنجز بھی جنم لیں گے جن سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر تیاری کی ضرورت ہوگی۔