LIVE
Loading Breaking News...

اولیور مک گوان کے طبی ریکارڈز تک مبینہ غیر مجاز رسائی، والدہ کا اظہارِ صدمہ

News Image
سنہ 2016 میں انتقال کرنے والے نوجوان اولیور مک گوان کے طبی ریکارڈز تک برسٹل میں این ایچ ایس کے عملے کی جانب سے مبینہ غیر قانونی رسائی کا انکشاف ہوا ہے۔ اس واقعے پر مرحوم کی والدہ نے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
برسٹل سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سنہ 2016 میں انتقال کرنے والے برطانوی نوجوان اولیور مک گوان کے طبی ریکارڈز تک مبینہ طور پر نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے عملے نے غیر مناسب طریقے سے رسائی حاصل کی ہے۔ اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد اولیور کی والدہ شدید صدمے اور تکلیف سے دوچار ہیں۔ خاندان کا ماننا ہے کہ ایک ایسے نوجوان کے نجی ریکارڈز تک رسائی حاصل کرنا جو اس دنیا میں نہیں رہا، انتہائی افسوسناک اور پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اولیور مک گوان کی موت کے بعد ان کا خاندان صحت کے شعبے میں اصلاحات اور معذور افراد کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے۔ اب اس نئے واقعے نے غمزدہ خاندان کے لیے مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ این ایچ ایس کے حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا عملے کے کسی فرد نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریکارڈز کا معائنہ کیا یا نہیں۔ محکمے کی جانب سے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔ طبی ریکارڈز کی رازداری اور سیکیورٹی کسی بھی نظامِ صحت کا ایک اہم ترین ستون ہوتی ہے، بالخصوص جب بات کسی مرحوم مریض کی ہو۔ اس معاملے نے ایک بار پھر ہسپتالوں کے اندر ڈیٹا سیکیورٹی اور ملازمین کے رسائی کے حقوق پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ این ایچ ایس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والے ایسے کسی بھی واقعے کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب سماجی حلقوں اور معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اولیور مک گوان کے معاملے میں مکمل شفافیت برتی جائے اور این ایچ ایس کے تمام اداروں میں ڈیٹا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ کسی بھی خاندان کو اس قسم کی ذہنی اذیت کا سامنا نہ کرناپڑے。