World
اسرائیلی افواج کا شام کے جنوبی صوبوں میں داخلہ اور گھروں کی مسماری
بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی افواج نے شام کے جنوبی صوبوں میں 1974 کی جنگ بندی لائن سے آگے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران مقامی رہائشیوں کی گرفتاری اور مکانات کو منہدم کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے خطے میں جاری سیاسی و عسکری صورتحال میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی افواج نے شام کے جنوبی صوبوں میں 1974 کی ڈس انگیجمنٹ لائن یا جنگ بندی کی لکیر سے آگے بڑھ کر اپنی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ اس پیش قدمی کے دوران نہ صرف فوجی موجودگی کو بڑھایا گیا ہے بلکہ مقامی آبادی کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مقامی ذرائع اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، ان کارروائیوں کے دوران متعدد شامی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ کئی رہائشی مکانات کو بھی منہدم کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے جنوبی شام کے مکینوں میں شدید خوف و ہراس پھیلادیا ہے جو پہلے ہی طویل خانہ جنگی اور حکومتی تبدیلی کے صدمے سے گزر رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے اس پیش قدمی کا مقصد مبینہ طور پر سرحدی سیکیورٹی کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے، تاہم علاقائی ماہرین اسے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز قدم قرار دے رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شام کی مرکزی سیاسی اتھارٹی کمزور ہے اور ملک ایک کٹھن عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ عالمی برادری بالخصوص خطے کے ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی جنوبی شام میں شہریوں کی گرفتاریوں اور املاک کی تباہی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔