Technology
خلائی دفاعی جنگ: برطانیہ کی جانب سے سیٹلائٹس جام کرنے کا انکشاف
برطانیہ نے خلائی خطرات سے بچنے کے لیے دشمن کے سیٹلائٹس کو جام کرنے کی صلاحیت کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خلا میں بڑھتی ہوئی دفاعی دوڑ اور حریف ممالک کیجانب سے لاحق خطرات کا مؤثر جواب دینا ہے۔
خلائی تحقیق اور دفاعی امور کے حوالے سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹس کے مطابق، برطانیہ نے دشمن کی جانب سے ملنے والے ممکنہ خطرات کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے اپنے دفاعی نظام کو مزید فعال کر دیا ہے۔ بی بی سی کو فراہم کی جانے والی معلومات میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ برطانوی حکام نے خلا میں موجود حریف قوتوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے سیٹلائٹس کو جام کرنے کے طریقہ کار کو اپنایا ہے۔ یہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ دنیا بھر میں روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ اب خلائی میدان میں بھی ایک خاموش اور خطرناک دفاعی دوڑ کا آغاز ہو چکا ہے۔
خلائی ماہرین کا ماننا ہے کہ جدید دور میں کسی بھی ملک کی معیشت، مواصلاتی نظام اور عسکری صلاحیتیں خلا میں موجود سیٹلائٹس پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ اگر کوئی دشمن ملک ان خلائی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے، تو متعلقہ ملک کا پورا ڈیجیٹل اور دفاعی نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر برطانوی دفاعی اداروں نے ایسے جدید سسٹمز تیار کیے ہیں جو نہ صرف اپنے سیٹلائٹس کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر دشمن کے سیٹلائٹس کو جام یا ناکارہ بھی بنا سکتے ہیں۔
اس پیشرفت نے عالمی سطح پر خلا کے عسکری استعمال پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت خلا کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر زور دیا جاتا رہا ہے، تاہم بڑی طاقتیں خلا میں اپنی برتری قائم کرنے کے لیے مسلسل نئے ہتھیار اور کاؤنٹر میزرز تیار کر رہی ہیں۔ برطانیہ کا یہ اعتراف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آنے والے وقتوں میں جنگیں زمین یا سمندر تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ خلائی خلاء بھی طاقت کے مظاہرے کا سب سے بڑا میدان بنتا جا رہا ہے۔