World
اسرائیلی انتخابات اور غزہ کے فلسطینیوں کا ردعمل
فلسطینی عوام آنے والے اسرائیلی انتخابات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن اکثریت کا ماننا ہے کہ اس ووٹنگ سے ان کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ غزہ کے رہائشیوں میں اس سیاسی عمل کے حوالے سے شدید بے حسی اور خوف پایا جاتا ہے۔
غزہ کی پٹی کے فلسطینی باشندے آنے والے اسرائیلی انتخابات کی مہم کا بڑی باریکی سے جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ان کے اندر کسی بھی مثبت تبدیلی کی کوئی امید نہیں پائی جاتی۔ علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں چاہے کوئی بھی حکومت اقتدار میں آئے، غزہ کے محاصرے اور روزمرہ کے مصائب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں اس سیاسی عمل کے خلاف ایک گہری بے رغبتی اور خوف کی فضا موجود ہے۔
فلسطینی تجزیہ کاروں کے مطابق، انتخابی مہم کے دوران تمام اہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے سخت گیر مؤقف ہی اپنایا جاتا ہے، جو غزہ کے لوگوں کے لیے مزید مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ اسرائیلی سیاسی منظرنامے میں ہونے والی تبدیلیاں ان کے بنیادی حقوق اور آزادی کی بحالی میں کسی قسم کی مددگار ثابت نہیں ہو سکتیں۔ اس تمام صورتحال کی وجہ سے فلسطینی معاشرے میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔
اسرائیلی انتخابات کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی غزہ کے رہائشیوں میں یہ احساس مزید پختہ ہو گیا ہے کہ ان کی زندگیوں پر ان فیصلوں کے برے اثرات ہی پڑیں گے جو تل ابیب میں کیے جاتے ہیں۔ روزگار کے مواقع کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور سیاسی بے یقینی نے پہلے ہی یہاں کے باسیوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، اور نئے انتخابات سے کسی قسم کی ریلیف کی توقع ناپید ہو چکی ہے۔