World
سوڈانی فوج کے سربراہ کا ویزا روکنے پر امریکی پالیسی پر تنقید
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کا ویزا مبینہ طور پر نوے روزہ جنگ بندی معاہدے کی منظوری کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے روکا ہے۔ اس اقدام پر عالمی اور علاقائی سطح پر شدید ردعمل اور تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
سوڈان میں جاری تباہ کن خانہ جنگی کے دوران ایک نئے سفارتی تنازع نے جنم لے لیا ہے، جہاں میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ نے سوڈانی فوج کے سربراہ اور حکمران کونسل کے چیئرمین جنرل عبدالفتاح البرہان کا اقوام متحدہ کا ویزا روک رکھا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مبینہ طور پر سوڈان میں جاری طویل خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے نوے روزہ جنگ بندی کے ایک نئے معاہدے کو قبول کرنے کی خاطر سوڈانی فوج پر دباؤ بڑھانا ہے۔ بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب سوڈان میں انسانی بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے اور عالمی ادارے فوری طور پر جنگ بندی کے خواہاں ہیں۔ سوڈانی عسکری قیادت اور اس کے حامیوں کی طرف سے اس امریکی دباؤ پر شدید غصے اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، کیونکہ اسے ملکی خودمختاری میں مداخلت اور سفارتی دباؤ کا ایک نامناسب حربہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی مزید بڑھے گی اور امن مذاکرات کی بحالی کی کوششیں شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ سوڈان میں جاری اس تنازع نے لاکھوں شہریوں کو بے گھر کر دیا ہے جبکہ خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ دوسری جانب، امریکی حکام کی طرف سے اس معاملے پر تاحال کوئی حتمی اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن واشنگٹن پہلے ہی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ سوڈان کے دونوں متحارب فریقوں کو فوری طور پر جنگ بند کر کے مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔ اس تازہ ترین پیش رفت کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی یا سلامتی کونسل کے اجلاسوں میں سوڈانی نمائندگی کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، اور عالمی سطح پر اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا تنازعات کے حل کے لیے اس طرح کے سفارتی دباؤ کا استعمال موثر ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں۔